جب کوئی حکومت اپنے ہی لوگوں کی تاریخ کو عجائب گھروں کی دیواروں سے ہٹانا شروع کر دے، تو اس کا نتیجہ انتہائی معنی خیز خاموشی کی صورت میں نکلتا ہے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق کوللمبیایا کے صدر ابیلارڈو ڈی لا اسپیریلا نے ایک ثقافتی جوابی انقلاب کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت قومی عجائب گھر سے ایسی تمام اشیاء اور فن پاروں کو نکالا جا رہا ہے جن کے بارے میں ان کا دعویٰ ہے کہ وہ کمیونزم کو فروغ دیتے ہیں۔

الجزیرہ نے ایسوسی ایٹڈ پریس کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس قدامت پسند صدر نے گزشتہ ہفتے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ان کا مقصد ثقافتی اداروں کو ملحدانہ سماجی کمیونزم کے اثرات سے بچانا ہے۔ اس اعلان کے بعد سے کوللمبیایا میں سیاسی تشدد، فیمینزم اور حقوق نسواں نیز ایل جی بی ٹی کیو تحریک سے متعلق نمائشوں کو عجائب گھر سے ہٹا دیا گیا ہے۔

الجزیرہ کے مطابق ان تبدیلیوں کے خلاف فنکاروں، طلباء اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے شدید احتجاج کیا ہے اور حکومت پر سنسرشپ کے الزامات عائد کیے ہیں۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ حکومتی اقدامات سے ملک کی تاریخ کے اہم ابواب مٹنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ بوگوٹا کے مرکزی عجائب گھر کے باہر ہونے والے اس مظاہرے کے دوران پولیس بھی موجود تھی۔ تاریخ کے طالب علم ازول ریباسکوس نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے اپنے غصے کا اظہار کیا اور کہا کہ حکومت کوللمبیایا کو ایک سفید فام، کیتھولک اور ہسپانوی بولنے والے خطے کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جس سے سیاہ فام، مقامی اور دیگر اقلیتی طبقات کو پسماندہ کیا جا رہا ہے۔

پس منظر

الجزیرہ کے مطابق صدر ابیلارڈو ڈی لا اسپیریلا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامی ہیں۔ الجزیرہ سے بات کرنے والے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کوللمبیایا کی حکومت کا یہ طرز عمل امریکی سیاست کی نقل معلوم ہوتا ہے۔ واشنگٹن آفس آن لاطینی امریکہ کی ڈائریکٹر جیمینا سانچیز گارزولی نے الجزیرہ کو بتایا کہ یہ حکمت عملی ٹرمپ کے اتحادیوں میں پائے جانے والے ایک وسیع تر رجحان کی عکاس ہے۔ انہوں نے واشنگٹن کے عجائب گھروں پر حالیہ امریکی نظرثانی کا ذکر کیا اور بتایا کہ جولائی میں آنے والی ایک وائٹ ہاؤس رپورٹ میں سمتھسنین کے نیشنل میوزیم آف امریکن ہسٹری کے رہنماؤں کو بنیاد پرست کارکن قرار دیا گیا تھا اور عجائب گھر کے باہر وارننگ سائن لگانے کا حکم دیا گیا تھا۔

بوگوٹا کے مظاہروں کے دوران ماہر بشریات آرٹورو ثانابریا نے الجزیرہ کو بتایا کہ حکومت کے یہ اقدامات نوآبادیاتی مداخلت کی ایک شکل ہیں، اور انتظامیہ دہشت گردی اور دیگر موضوعات پر باہر سے درآمد شدہ بیانیے استعمال کر رہی ہے۔

اس کی اہمیت کیا ہے

بین الاقوامی امور کا مشاہدہ کرنے والے قارئین کے لیے یہ بحث اس بات کی عکاس ہے کہ ثقافتی ادارے کس طرح قومی تاریخ کی عکاسی کرتے ہیں۔ کوللمبیایا کا یہ تنازع بتاتا ہے کہ حکومتوں کی تبدیلی ثقافتی اور تاریخی ورثے پر کس طرح اثر انداز ہوتی ہے اور عوامی یادداشت کے حوالے سے شدید بحثیں چھیڑ دیتی ہے۔