بیجنگ میں بند دروازوں کے پیچھے چین کی سینٹرل کمیٹی کے لگ بھگ 300 ارکان ایک اہم اور طویل اجلاس میں شریک ہیں جس کا بنیادی مقصد حکمران کمیونسٹ پارٹی کے اندر نظم و ضبط کو مزید سخت کرنا اور کرپشن کا خاتمہ ہے۔ الجزیرہ، اے ایف پی اور ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کی رپورٹوں کے مطابق چار روز تک جاری رہنے والے اس پانچویں اجلاس پر دنیا بھر کی نظریں مرکوز ہیں تاکہ ملک کے مستقبل کے لائحہ عمل اور آنے والی قیادت کی تبدیلیوں کے اشارے مل سکیں۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ اجلاس صدر شی جن پنگ کو یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ سیاسی صفوں میں اوپر آنے والی نئی نسلیں قومی چیلنجز اور مواقع کے بارے میں ان کے ویژن سے پوری طرح ہم آہنگ ہوں۔ سرکاری خبر رساں ادارے ژنہوا کے حوالے سے الجزیرہ نے بتایا ہے کہ کمیٹی ایک ایسے مسودہ پالیسی فیصلے پر غور کرے گی جس کا مقصد پارٹی میں خود احتسابی کو فروغ دینا اور حکام کو زیادہ باقاعدہ، مؤثر اور کرپشن سے پاک بنانا ہے۔
پس منظر
الجزیرہ، اے ایف پی اور اے پی کی رپورٹوں کے مطابق صدر شی جن پنگ پچھلے 14 سال سے کرپشن کے خلاف ایک بڑی مہم چلا رہے ہیں جس کے نتیجے میں ہزاروں اہلکاروں اور کمیٹی کے کئی ارکان کو عہدوں سے ہٹایا جا چکا ہے۔ اس وسیع کریک ڈاؤن کے باوجود الجزیرہ نے یہ بھی رپورٹ کیا کہ صدر شی ان افسران سے ناخوش ہیں جو ان کے احکامات پر صحیح طریقے سے عمل درآمد نہیں کرتے۔ جنوری میں جاری ہونے والی ایک تقریر میں صدر شی نے ایسے افسران پر کڑی تنقید کی تھی جنہیں انہوں نے منافقانہ رویے کا حامل قرار دیا تھا اور الزام لگایا تھا کہ وہ بظاہر حکم مانتے ہیں لیکن اندرونی طور پر ہدایات کی مخالفت کرتے ہیں۔
یہ کیوں اہم ہے
بین الاقوامی مبصرین اور علاقائی شراکت داروں کے لیے چین کی اعلیٰ سیاسی صفوں میں ہونے والی یہ تبدیلیاں اس بات کا اشارہ ہیں کہ دنیا کی دوسری بڑی معیشت کس طرح اپنے انتظامی امور اور اہم انتظامی منصوبوں کو آگے بڑھائے گی۔ ایشیا سوسائٹی پالیسی انسٹی ٹیوٹ کے نیل تھامس جیسے تجزیہ کاروں کا حوالہ دیتے ہوئے الجزیرہ نے بتایا ہے کہ ان مذاکرات سے سرکاری اخراجات پر کڑی نظر رکھی جائے گی، بدعنوانی پکڑنے کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھایا جائے گا اور پالیسی اہداف پورے نہ کرنے والے افسران کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں گے۔
آگے کیا ہوگا
الجزیرہ، اے ایف پی اور اے پی کے مطابق پارٹی ڈسپلن اور پالیسی فیصلوں کے بارے میں یہ چار روزہ بند کمرہ اجلاس اسی ہفتے اپنے فیصلوں کو حتمی شکل دے گا۔ یہ اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب اس بات کا قوی امکان ہے کہ آئندہ برسوں میں صدر شی جن پنگ پارٹی کے قائد کی حیثیت سے اپنی چوتھی پانچ سالہ مدتِ کار پوری کریں گے اور کلیدی قیادت کے اداروں میں نئی تقرریاں متوقع ہیں۔

