نئی دہلی کے مرکز میں طاقت کے ایوانوں کے قریب خاموشی سے کھڑی ایک صدی پرانی عبادت گاہ پر اب انہدام کا سایہ منڈلانے لگا ہے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، بھارتی مسلمانوں کو اس تاریخی مسجد کے مسمار کیے جانے کا شدید خوف لاحق ہے کیونکہ اس کے امام کو انخلا کا نوٹس موصول ہوا ہے۔

الجزیرہ کے مطابق یہ مسجد بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی رہائش گاہ کے قریب واقع ہے۔ یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اردگرد کے علاقے میں بڑے پیمانے پر تجاوزات کے خلاف آپریشن جاری ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ انتظامیہ پہلے ہی مسجد کے پانی اور بجلی کے کنکشن کاٹ چکی ہے۔

پس منظر

الجزیرہ کے مطابق یہ عمارت ایک صدی پرانی مسجد ہے جو بھارتی وزیراعظم کی سرکاری رہائش گاہ کے بالکل قریب واقع ہے۔ امام کی جانب سے انخلا کا نوٹس ملنے اور محلے میں جاری کارروائیوں کے بعد یہ مقام تشویش کا مرکز بن گیا ہے۔

اس کی اہمیت کیوں ہے

پاکستان سمیت خطے بھر کے مبصرین اور عوام کے لیے تاریخی مذہبی مقامات کے تحفظ سے متعلق خبریں گہرا اثر رکھتی ہیں۔ عبادت گاہوں، شہری علاقوں میں انہدام اور اقلیتی برادریوں کے معاملات پر سول سوسائٹی اور عام قارئین کی ہمیشہ گہری نظر رہتی ہے جو تاریخی ورثے اور نشانیوں کے تحفظ کو اہمیت دیتے ہیں۔