دس ہزار برطانوی پاؤنڈ کا معروف ادبی انعام اس وقت تنازع کی زد میں آ گیا جب ایک امریکی رسالے نے دعویٰ کیا کہ جیتنے والی کہانی مکمل طور پر مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کی مدد سے لکھی گئی ہے۔ بی بی سی نیوز کے مطابق زمبابوے کے مصنف سمباراشے کوندیزیزا نے سوشل میڈیا پر ان الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ انہوں نے یہ تخلیق خود لکھی ہے۔

یہ کہانی ایک ایسے لڑکے کے گرد گھومتی ہے جس کا خاندان مالی مشکلات کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس کہانی پر افریقی ادب کا نامور کین پرائز دینے کے ایک ہفتے بعد یہ الزام سامنے آیا۔ بی بی سی کے مطابق یہ دعویٰ دی اٹلانٹک میں واوہینی وارا کے ایک مضمون کی بنیاد پر کیا گیا، جس میں بتایا گیا کہ اے آئی کا پتہ لگانے والے سافٹ ویئر پینگگرام نے اس کام کو سو فیصد مصنوعی قرار دیا ہے۔

کین پرائز کی چیئرپرسن ایلا وقاتاما نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اس بات پر دنگ رہ گئیں کہ امریکی رسالے نے مکمل تحقیقات کا انتظار کیے بغیر یہ دعوے شائع کر دیے، جس سے انعام اور فاتح دونوں کی ساکھ کو بلاوجہ نقصان پہنچا۔ ایلا وقاتاما نے بتایا کہ بورڈ آف ٹرسٹیز سے جمعے کے روز رابطہ کیا گیا اور اس کے صرف دو دن بعد اتوار کو یہ مضمون شائع کر دیا گیا۔

دوسری جانب واوہینی وارا نے اپنے دفاع میں بی بی سی کو بتایا کہ پینگگرام کی اندرونی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس کے جائزے شاذ و نادر ہی غلط ہوتے ہیں۔ اس رپورٹ کے بعد سوشل میڈیا پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ بی بی سی کے مطابق کئی افریقی مصنفین اور ناشرین نے ان الزامات پر تنقید کی ہے۔ نائجیریا کی پبلشر مودیپے دارامولا نے سوال اٹھایا ہے کہ کسی مصنوعی ذہانت کے ٹول کے فیصلے کو حتمی کیوں سمجھا جائے، اور یہ تجویز بھی دی کہ سیا فام اور افریقی مصنفین کو غیر ضروری جانچ پڑتال کا سامنا ہے۔

پس منظر

بی بی سی نیوز کے مطابق سمباراشے کوندیزیزا نے مچھلیوں کے ٹینک کے بارے میں ایک نظم سے متاثر ہو کر اپنی یہ فاتح کہانی لکھی جس کا نام دی بلو فائٹر ہے اور جو زمبابوے میں ان کے خاندانی حالات کی عکاسی کرتی ہے۔ اس تازہ تنازع سے پہلے رواں سال ایسے ہی کئی دیگر ادبی تنازعات بھی سامنے آئے ہیں۔ ان میں ٹرینیڈاڈ کے مصنف جیمیر نذیر کی طرف سے دولت مشترکہ کا مختصر کہانی کا انعام جیتنا اور کینیڈین ہیتی مصنف تھیلیسن اوریلیئن کا فرانس کے گونکور ادبی انعام سے غیر مصدقہ الزامات کی وجہ سے دستبردار ہونا شامل ہے۔

یہ معاملہ کیوں اہم ہے

پاکستان سمیت دنیا بھر کے قارئین اور مبصرین کے لیے یہ بحث روایتی انسانی فن کاری اور ابھرتی ہوئی خودکار ٹیکنالوجی کے درمیان بڑھتی ہوئی کشمکش کو ظاہر کرتی ہے۔ جیسے جیسے ڈیجیٹل آلات تخلیقی کاموں کی جانچ پڑتال کر رہے ہیں، شفافیت، الگورتھم کے تعصب اور مختلف خطوں کے مصنفین کے ساتھ منصفانہ سلوک کے سوالات عالمی ثقافتی اداروں میں اعتماد بحال رکھنے کے لیے انتہائی اہم بنتے جا رہے ہیں۔

آگے کیا ہوگا؟

بی بی سی نیوز کے مطابق سمباراشے کوندیزیزا کین پرائز کی طرف سے جاری اندرونی تحقیقات کے سلسلے میں اپنے لکھنے کے عمل سے متعلق دستاویزات جمع کرانے کے لیے تیار ہیں۔