برازیل کے ووٹرز ایک ہی مہینے میں دوسری بار پولنگ اسٹیشنوں کا رخ کر رہے ہیں تاکہ یہ فیصلہ کیا جا سکے کہ آیا بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے موجودہ صدر لوئیس انیسیو لولا دا سلوا اقتدار میں رہیں گے یا پھر دائیں بازو کے چیلنجر سینیٹر فلاویو بولسونارو کو موقع ملے گا۔ الجزیرہ کے مطابق یہ کشیدہ رن آف انتخاب 4 اکتوبر کے پہلے مرحلے کے بعد ہو رہا ہے جس میں سینیٹر بولسونارو نے توقعات سے بہتر کارکردگی دکھائی تھی اور صدر لولا کو دو فیصد سے بھی کم فرق سے شکست دی تھی۔
اہم حقائق
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق 4 اکتوبر کو ہونے والے پہلے مرحلے کے اختتام پر سینیٹر فلاویو بولسونارو نے 47 فیصد ووٹ حاصل کیے جبکہ صدر لولا دا سلوا کے حصے میں 45 فیصد سے کچھ زیادہ ووٹ آئے۔ باقی ووٹ دیگر قدامت پسند امیدواروں میں تقسیم ہوئے جو اس مرحلے میں آگے نہ بڑھ سکے۔ الجزیرہ نے بتایا کہ اگرچہ جائزوں میں پہلے ہی کانٹے کے مقابلے کی توقع کی جا رہی تھی، لیکن بولسونارو کی توقع سے بہتر کارکردگی نے موجودہ صدر کے حامیوں کو حیران کر دیا۔
پس منظر
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق اس انتخاب سے یہ طے ہوگا کہ اگلے چار سال کے لیے برازیل کی صدارت کس کے پاس ہوگی۔ ورکرز پارٹی کے 80 سالہ امیدوار صدر لولا اپنی چوتھی غیر مسلسل مدت کے لیے کوشاں ہیں، اور ان کی سیاست کی بنیاد غریب طبقے کے لیے فلاحی پروگرام اور غیر مغربی ممالک کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانا ہے۔ دوسری طرف سینیٹر فلاویو بولسونارو سابق انتہائی دائیں بازو کے صدر جائیر بولسونارو کے صاحبزادے ہیں، جو 2022 کے انتخاب میں شکست کے بعد بغاوت کی سازش کے جرم میں اس وقت 27 سال قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ الجزیرہ نے اس بات کی بھی نشاندہی کی ہے کہ ملک بھر میں قانون ساز اسمبلیوں کے مقابلوں میں بھی قدامت پسند اور دائیں بازو کے امیدواروں نے کامیابیاں حاصل کی ہیں۔
اس کی اہمیت کیوں ہے
بین الاقوامی مبصرین کے لیے یہ انتخاب بائیں بازو کے فلاحی ماڈلز اور مارکیٹ دوست، سیکیورٹی پر مبنی قدامت پسند حکمرانی کے درمیان جاری عالمی بحث کو نمایاں کرتا ہے۔ الجزیرہ کے مطابق سینیٹر بولسونارو کی فتح برازیل کو لاطینی امریکہ کے ان دیگر ممالک کی صف میں لا کھڑا کرے گی جو دائیں بازو کی قیادت کی طرف بڑھ رہے ہیں، جبکہ صدر لولا کی انتظامیہ اس علاقائی تبدیلی کے خلاف ایک اہم رکاوٹ کے طور پر سامنے آئی ہے۔
آگے کیا ہوگا
الجزیرہ کے مطابق ووٹرز اتوار کو اپنے حق رائے دہی کا استعمال کر رہے ہیں تاکہ اس دوڑ کا فیصلہ کیا جا سکے اور اگلے چار سال کے لیے صدارت کا تعین ہو۔

