رنگ کے اندر اپنے گھونسوں سے مخالفین کے ہوش اڑانے والا ایک اور ستارہ ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا۔ بی بی سی سپورٹ کی رپورٹ کے مطابق، تین مختلف وزن کے زمروں میں عالمی چیمپئن رہنے والے ول فریڈو 'بازوکا' گومز 69 برس کی عمر میں جہان فانی سے کوچ کر گئے ہیں۔ انہیں سانس لینے میں دشواری کے باعث ہسپتال لایا گیا تھا جہاں وہ جانبر نہ ہو سکے۔
بی بی سی سپورٹ نے بتایا کہ پیورٹو ریکو سے تعلق رکھنے والے اس بکسر نے اپنے کیریئر میں کل 48 مقابلے لڑے جن میں سے 44 میں کامیابی حاصل کی۔ ان کی سب سے بڑی پہچان ان کا زبردست پنچ تھا، اور انہوں نے اپنی 44 میں سے 42 فتوحات ناک آؤٹ کے ذریعے سمیٹیں۔
عالمی ادارے ڈبلیو بی او کے سابق صدر پاکو والکارسیل نے سوشل میڈیا پر ان کے انتقال کی تصدیق کی۔ بی بی سی سپورٹ کے مطابق، والکارسیل نے اپنے پیغام میں لکھا کہ گومز ہی وہ شخصیت تھے جن کی وجہ سے وہ بین الاقوامی باکسنگ کی اس بڑی فیملی کا حصہ بنے، اور انہوں نے لکھا، "Rest in peace, my eternal champion Wilfredo 'Bazooka' Gomez," جیسا کہ بی بی سی سپورٹ نے نقل کیا۔
کیریئر اور یادگار مقابلے
بی بی سی سپورٹ کے مطابق، گومز نے اپنے شاندار کیریئر کے دوران ڈبلیو بی سی سپر بینٹم ویٹ ٹائٹل، ڈبلیو بی سی فیدر ویٹ بیلٹ اور ڈبلیو بی اے سپر فیدر ویٹ کا تاج اپنے سر سجایا۔ باکسنگ کے اس عظیم کھلاڑی کو 1995 میں انٹرنیشنل باکسنگ ہال آف فیم میں بھی شامل کیا گیا تھا۔
بی بی سی سپورٹ کے مطابق، ان کے یادگار ترین مقابلوں میں کارلوس زاراتے، لوپے پنطور، خوان لاپورٹے اور راکی لاکرج کے خلاف میچ شامل ہیں۔ زاراتے کے خلاف فتح اس لحاظ سے تاریخی تھی کہ انہوں نے سان جوآن میں کھیلے گئے مقابلے میں 52 میچوں سے ناقابل شکست چلے آ رہے زاراتے کو پانچویں راؤنڈ میں ہی ہرا دیا تھا۔ البتہ انہیں 1981 میں سلواڈور سانچیز اور 1984 میں ازوما نیلسن کے خلاف اہم مقابلوں میں شکست کا سامنا بھی کرنا پڑا تھا۔
ڈبلیو بی سی اور اس کے صدر ماریوس سلیمان نے بی بی سی سپورٹ کے توسط سے اپنے بیان میں کہا کہ گومز کا شمار دنیا کے عظیم ترین رنگ لیجنڈز میں ہوتا ہے اور وہ ایک ایسے بکسر تھے جنہوں نے سپر بینٹم ویٹ کے 17 مسلسل ٹائٹل دفاع کرنے کا تاریخی ریکارڈ اپنے نام کیا، اور یہ تمام دفاع انہوں نے ناک آؤٹ کی مدد سے جیتے تھے۔
پیشہ ورانہ دنیا میں قدم رکھنے سے پہلے، گومز نے صرف 15 سال کی عمر میں 1972 کے اولمپکس میں حصہ لیا تھا اور کیوبا میں ہونے والی پہلی ورلڈ امیچور چیمپئن شپ میں 17 سال کی عمر میں گولڈ میڈل جیتا تھا، جیسا کہ بی بی سی سپورٹ نے بتایا۔
اس کی اہمیت کیوں ہے
پاکستان سمیت دنیا بھر کے کھیلوں کے شائقین کے لیے ول فریڈو گومز کا دنیا سے چلے جانا باکسنگ کی تاریخ کے ایک سنہرے باب کا اختتام ہے۔ جو کھلاڑی محنت اور لگن کے بل بوتے پر عام حالات سے اٹھ کر بلندیوں کو چھوتے ہیں، ان کی کہانیاں دنیا بھر میں ان تمام لوگوں کے لیے حوصلے کا باعث بنتی ہیں جو نظم و ضبط اور کھیل میں مہارت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
