جب ووٹرز ایک انتہائی اہم اور قریب سے لڑے جانے والے عام انتخابات کے لیے تیار ہیں، تو اسرائیل کا سیاسی منظرنامہ ڈیجیٹل اسکرینوں پر منتقل ہو چکا ہے جہاں آن لائن بوٹس، مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا کے ہتھیاروں کا کھل کر استعمال کیا جا رہا ہے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، ووٹنگ سے چند روز قبل وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو اور ان کے اپوزیشن حریف کانٹے کے مقابلے میں پھنسے ہوئے ہیں، اور دونوں خیمے عوامی رائے کو اپنے حق میں کرنے کے لیے سوشل میڈیا اشتہارات اور ٹویک کی گئی ویڈیوز کا سہارا لے رہے ہیں۔
انتخابی میدان میں ایکس (تھوڑی دیر پہلے تک ٹوئٹر) سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد کا دھڑلے سے استعمال دیکھا جا رہا ہے۔ الجزیرہ کے مطابق، ان آلات کا استعمال کرتے ہوئے ملک کے مستقبل کی ایسی خوفناک تصویریں دکھائی جا رہی ہیں جو انتخابی نتائج سے مشروط ہیں۔ ایسی ویڈیوز بھی سامنے آئی ہیں جن میں نیتن یاہو کو ماضی کی تنقید کا سامنا کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے یا پھر اپوزیشن کو عرب جماعتوں کے ساتھ ہمدردی رکھنے والا ظاہر کیا گیا ہے۔
پس منظر
الجزیرہ کے مطابق، رائے عامہ کے جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ منگل کو ہونے والے عام انتخابات سے پہلے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو اور اپوزیشن رہنما گادی آئزن کوٹ کے خیمے آمنے سامنے ہیں۔ سیاسی تقسیم کے اس ماحول میں ڈیجیٹل مہم جوی کی شدت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
اسرائیلی اخبار ہارٹیز کی رپورٹ، جسے الجزیرہ نے نقل کیا ہے، سے انکشاف ہوا ہے کہ درجنوں ایسے آن لائن بوٹس جو پہلے ایران کی حکومت کے خلاف بنائے گئے تھے، اب نیتن یاہو اور لیکوڈ پارٹی کے حق میں انتخابی پروپیگنڈا پھیلانے کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ان بوٹس کو ووٹرز کو آئزن کوٹ اور سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کے خلاف خبردار کرنے کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔
دوسری طرف، حریف دھڑوں کے درمیان تکنیکی وسائل کا فرق بھی سامنے آیا ہے۔ عرب اکثریتی جوائنٹ لسٹ کی عبرانی زبان کی مہم کے ڈائریکٹر موریشیو لاپچک نے الجزیرہ کو بتایا کہ ان کی جماعت ایسے حریفوں کا مقابلہ کر رہی ہے جن کے پاس کہیں زیادہ بجٹ اور تکنیکی وسائل موجود ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ٹیکنالوجی پر یہ شدید انحصار پہلے سے موجود عدم مساوات کو مزید گہرا کرتا ہے۔
انتخابی انتظامات کے حوالے سے الجزیرہ نے بتایا کہ لیکوڈ پارٹی نے پہلے انتخابی دن ووٹرز کی آمد و رفت پر نظر رکھنے کے لیے 'الیکٹر' نامی ایپ استعمال کرنے کی کوشش کی تھی، لیکن مرکزی انتخابی کمیٹی نے رازداری کے خدشات کی بنا پر اس کے استعمال کو محدود کر دیا۔ اب اس کے بجائے پارٹی 'وکٹری 26' نامی ایک نئی ایپلی کیشن استعمال کرے گی، جو انفرادی ووٹرز کی شناخت ظاہر نہیں کرتی لیکن کارکنوں کو ان علاقوں کی نگرانی کرنے کی اجازت دیتی ہے جہاں ٹرن آؤٹ کم ہو۔
اس کی اہمیت کیوں ہے؟
دور سے عالمی جمہوری عمل کا جائزہ لینے والے مشاہدین اور عام قارئین کے لیے، کسی قومی انتخابات میں مصنوعی ذہانت، ڈیپ فیک اور نگرانی کے آلات کا استعمال اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ جدید جمہوری نظام ڈیجیٹل ہیرا پھیری کے سامنے کتنے غیر محفوظ ہوتے جا رہے ہیں۔ جدید ڈیٹا ایپس اور خودکار بوٹ نیٹ ورکس پر انحصار اس بات کو اجاگر کرتا ہے کہ انتخابی حربے کتنی تیزی سے بدل رہے ہیں، جو ڈیٹا کی رازداری، سیاسی جماعتوں کے درمیان تکنیکی برابری اور معاصر جمہوریتوں میں معلومات کے تقدس کے حوالے سے عالمی سطح پر سوالات اٹھاتے ہیں۔

