امریکی انتخابات اور ایشیا پیسیفک کی نظریں
امریکہ کے وسطی انتخابات پر اس وقت ایشیا پیسیفک کے خطے کی حکومتیں اور تجارتی ادارے انتہائی گہری نظریں لگائے بیٹھے ہیں۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے ساتھ جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے توانائی کے بحران اور امریکی ٹیرف کی چکی میں پسنے والا یہ خطہ امریکی پالیسیوں میں بڑی تبدیلی کا منتظر ہے۔ اگرچہ بہت سوں کو تجارت اور جاری تنازع کے حوالے سے امریکی خارجہ پالیسی میں نمایاں تبدیلی کی امید ہے، تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کانگریس میں ڈیموکریٹس کے کنٹرول کے بعد بھی پالیسیوں میں کسی بڑے بدلاؤ کی توقع کم ہی ہے۔
توانائی کا بحران اور معاشی اثرات
الجزیرہ کے مطابق مشرق وسطیٰ کے علاوہ دنیا کا کوئی بھی خطہ ایران جنگ سے اتنا متاثر نہیں ہوا جتنا کہ ایشیا پیسیفک ہوا۔ تنازع سے پہلے یہ خطہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے خلیجی تیل اور گیس پر بڑی حد تک انحصار کرتا تھا۔ جب امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد ایران نے اس اہم آبی گزرگاہ کو بند کیا تو پورے خطے میں تیل و گیس کی شدید قلت پیدا ہو گئی۔
الجزیرہ نے بتایا کہ فلپائن میں مارچ سے توانائی کی قومی ہنگامی صورتحال نافذ ہے، جو اپنے خام تیل کی درآمدات کا 90 فیصد سے زیادہ حصہ خلیجی ممالک سے حاصل کرتا ہے۔ دوسری جانب سنگاپور کے انسٹی ٹیوٹ آف ساؤتھ ایسٹ ایشین سٹڈیز (ISEAS) یوسف اشاق انسٹی ٹیوٹ کی رپورٹ کے مطابق کمبوڈیا، لاؤس، میانمار اور مشرقی تیمور میں ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے زرمبادلہ کے ذخائر کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ مزید برآں، انڈونیشیا، ملائیشیا، تھائی لینڈ اور ویت نام نے اپنے صارفین کو بچانے کے لیے ایندھن کی سبسڈی پر بھاری وسائل خرچ کیے ہیں۔
APAC ایڈوائزرز کے سی ای او اور تجارتی ماہر اسٹیون اوکن نے الجزیرہ کو بتایا کہ جنگ کے خلاف عوامی مخالفت کے باوجود، ڈیموکریٹک پارٹی کے کنٹرول والی امریکی کانگریس سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو 8 ماہ پرانی جنگ ختم کرنے پر مجبور کر سکے۔ اوکن نے یہ بھی نوٹ کیا کہ اگرچہ تحقیقات، نگرانی کی سماعتیں اور دفاعی سیکرٹری کے مواخذے کی کارروائیاں ہو سکتی ہیں، لیکن اس جنگ کے بنیادی اور اصل اثرات بدستور قائم رہیں گے۔
پس منظر اور اہمیت
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق جنوری میں ایران کے ساتھ جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی ڈونلڈ ٹرمپ نے ایسے سخت ٹیرف نافذ کر دیے تھے جن کا ایشیا پیسیفک کے ممالک پر شدید منفی اثر پڑا۔ اس کے بعد تنازع کی وجہ سے آبنائے ہرمز بند ہو گئی، جس سے مشرق وسطیٰ کے تیل اور گیس کی درآمدات پر انحصار کرنے والی معیشتوں میں توانائی کا سنگین بحران پیدا ہو گیا۔
پاکستان سے بین الاقوامی پیش رفت کا جائزہ لینے والے قارئین کے لیے یہ بات انتہائی اہم ہے کہ عالمی توانائی کے جھٹکے اور امریکی تجارتی پالیسیوں میں تبدیلیاں علاقائی استحکام، عالمی ایندھن کی قیمتوں اور معاشی دباؤ پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہیں۔ اہم سمندری گزرگاہوں میں رکاوٹیں اور سپر پاور کی قانون ساز کمیٹیوں کے کنٹرول میں تبدیلیاں براہ راست دنیا بھر میں ایندھن کی دستیابی اور ترقی پذیر منڈیوں کے معاشی استحکام کو متاثر کرتی ہیں۔

