سکیورٹی چیلنجز پر دوٹوک مؤقف

جیو نیوز اور آئی ایس پی آر کے مطابق، ملک بھر میں بڑھتے ہوئے سکیورٹی چیلنجز کے پیش نظر عسکری قیادت نے عزم کیا ہے کہ پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے والوں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔ چیف آف ڈیفنس فورسز (سی ڈی ایف) اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کور ہیڈکوارٹرز پشاور کے دورے کے دوران واضح کیا کہ پاک فوج بھارت کے حمایت یافتہ دہشت گردوں کو سخت ترین جواب دے گی۔ جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق، آئی ایس پی آر نے بتایا کہ فیلڈ مارشل منیر کو خیبر پختونخوا کی مجموعی سکیورٹی صورتحال، جاری انسدادِ دہشت گردی آپریشنز، بارڈر مینجمنٹ اور آپریشنل تیاریوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر سی ڈی ایف نے جوانوں کے بلند حوصلے اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا اور انہیں آپریشنل تیاریوں کا اعلیٰ ترین معیار برقرار رکھنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ بھارت کی پشت پناہی سے چلنے والے دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائی پوری قوت سے جاری رکھی جائے گی۔

اعلیٰ سطحی اجلاس اور ترقیاتی پیکیج

جیو نیوز کے مطابق یہ اہم پیش رفت وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت گورنر ہاؤس پشاور میں ہونے والے وفاقی اپیکس کمیٹی کے اجلاس کے ایک روز بعد سامنے آئی ہے۔ اس اعلیٰ سطحی اجلاس میں سول اور عسکری قیادت نے شرکت کی، جن میں سی ڈی ایف عاصم منیر بھی شامل تھے۔ اجلاس کے دوران وزیراعظم شہباز نے خیبر پختونخوا کے لیے 160 ارب روپے کے ترقیاتی پیکیج کا اعلان کیا اور کہا کہ وفاقی حکومت اور عسکری قیادت پائیدار امن کی بحالی اور ترقی کے لیے تیز رفتار انداز میں کام کر رہی ہے۔ جیو نیوز کے مطابق یہ فیصلے صوبے میں امن و امان کی خراب صورتحال کے باعث مشکل فیصلوں اور گورنر راج و ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد کیے گئے ہیں۔

پس منظر اور علاقائی صورتحال

جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق، 2021 میں افغان طالبان کی اقتدار میں واپسی کے بعد سے پاکستان، خصوصاً خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سرحد پار سے ہونے والے دہشت گرد حملوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ستمبر 2026 میں پاکستان میں گزشتہ 12 برسوں کے دوران کسی بھی ماہ میں سب سے زیادہ عسکریت پسند حملے ریکارڈ کیے گئے۔ اسلام آباد بارہا کابل سے مطالبہ کرتا رہا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دے، کیونکہ افغان طالبان حکومت پاکستانی سکیورٹی فورسز اور شہریوں پر حملوں میں ملوث گروہوں کے خلاف مؤثر کارروائی کرنے میں ناکام رہی ہے، جو دونوں فریقین کے درمیان ایک بڑا تنازع بنا ہوا ہے۔

عوام کے لیے اس کی اہمیت

پاکستان کے عام شہریوں، بالخصوص بدامن سے متاثرہ علاقوں کے باسیوں کے لیے موجودہ سکیورٹی صورتحال اور حکومتی ردعمل براہِ راست ان کی زندگی، سلامتی اور معاشی ترقی پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ سول اور عسکری قیادت کی مشترکہ کوششیں اور اربوں روپے کے ترقیاتی پیکیجز کا مقصد فوری سکیورٹی خطرات سے نمٹنے کے ساتھ ساتھ دہشت گردی سے متاثرہ اضلاع میں طویل المدتی خوشحالی کو یقینی بنانا ہے۔