جمہوریت کے تقدس کا دعویٰ کرنے والے ایوان کس طرح اکھاڑہ بن سکتے ہیں، اس کی ایک ہولناک مثال آرمینیا کی پارلیمنٹ میں سامنے آئی جہاں قانون ساز ایک بار پھر آپس میں گتھم گتھا ہو گئے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، حکمران جماعت کے ایک رکن کی جانب سے اپوزیشن رہنما کے اہل خانہ پر طنز کرنے پر شروع ہونے والی لفظی جنگ دیکھتے ہی دیکھتے ہاتھا پائی میں بدل گئی۔

الجزیرہ کے مطابق، اس پرتشدد اور ہنگامہ خیز واقعے کے نتیجے میں اراکینِ پارلیمنٹ کو جسمانی چوٹیں آئیں۔ ایک اپوزیشن رکن کی ناک سے خون بہ نکلا جبکہ ایک اور سیاست دان کے کپڑے بھی پھٹ گئے۔

پس منظر

الجزیرہ نے واضح کیا ہے کہ یہ پُرتشدد واقعہ آرمینیا کی مقننہ میں بڑھتے ہوئے تناؤ اور بدنظمی کا تسلسل ہے۔ صرف ایک ماہ کے اندر پارلیمانی ایوان کے اندر ہونے والی یہ تیسری لڑائی ہے جس نے ملکی سیاست کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے۔

اس کی اہمیت کیوں ہے؟

بین الاقوامی پارلیمانی امور پر نظر رکھنے والے مبصرین اور عام شہریوں کے لیے منتخب نمائندوں کے درمیان اس قسم کے بار بار ہونے والے جسمانی تصادم انتہائی تشویش ناک ہیں۔ یہ واقعات شدید سیاسی تقسیم اور پارلیمانی روایات کے زوال کی واضح عکاسی کرتے ہیں۔