ساحلی شہر کے پرسکون ماحول کے عادی باسیوں کے لیے اب مصروف اور سیاحتی علاقوں میں طویل بندوقیں اٹھائے افسروں کا گشت کرنا ایک اجنبی اور چونکا دینے والی حقیقت بن چکا ہے۔ بی بی سی نیوز کے مطابق، گزشتہ سال بونڈی بیچ پر ہونے والی ہلاکت خیز فائرنگ کے بعد حفاظتی اقدامات کو مزید سخت کرتے ہوئے سڈنی کی سڑکوں پر بھاری ہتھیاروں سے لیس پولیس نے گشت شروع کر دی ہے۔
آرمڈ رسپانس کمانڈ (اے آر سی) کے خصوصی تربیت یافتہ اہلکار اب بڑی تقریبات، عبادت گاہوں اور ہجوم والے عوامی مقامات پر خصوصی گاڑیوں میں گشت کریں گے۔ نیو ساؤتھ ویلز پولیس کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کا مقصد سنگین خطرات، بشمول مسلح حملہ آوروں کے واقعات کو روکنا، ان کا سدباب کرنا اور فوری جوابی کارروائی کرنا ہے۔ ڈیٹکٹیو سپرنٹنڈنٹ اینڈریو ایوانز نے اس بات پر زور دیا کہ اس کا بنیادی مقصد جانوں کا تحفظ ہے۔
بی بی سی نیوز اور اے بی سی کی رپورٹس کے مطابق اس تعیناتی پر عوام کی رائے واضح طور پر تقسیم ہے۔ ایک رہائشی نے اس منظر کو تشویشناک قرار دیا جبکہ ایک دوسری خاتون کا کہنا تھا کہ ہتھیاروں سے لیس پولیس انہیں محفوظ محسوس کراتی ہے۔ کمیونٹی قیادت میں، ایگزیکٹو کونسل آف آسٹریلین جیوری کے ایلکس رائیچن نے بی بی سی کو بتایا کہ کوئی بھی آسٹریلوی سڑکوں پر فوجی ہتھیاروں کے ساتھ افسروں کو نہیں دیکھنا چاہتا، لیکن لاشوں کے تھیلے دیکھنے کا منظر اس سے کہیں زیادہ بدتر ہے۔ اس کے برعکس، ایمنسٹی انٹرنیشنل آسٹریلیا نے پولیس کے عسکری رنگ اختیار کرنے پر تشویش کا اظہار کیا، جہاں اینڈریو وائٹ فورڈ نے واضح قواعد اور آزادانہ نگرانی کا مطالبہ کیا تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ اے آر سی کا استعمال پرامن احتجاج کے خلاف نہ ہو۔
پس منظر
بی بی سی نیوز کے مطابق، یہ سکیورٹی اوور ہال 14 دسمبر کو ہونے والے اس حملے کے بعد سامنے آیا ہے جب دو مسلح افراد نے بونڈی بیچ پر یہودی تہوار حنوکا کی ایک تقریب پر فائرنگ کر دی تھی، جس میں 10 سالہ بچی سمیت 15 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ یہ واقعہ تقریباً تین دہائیوں میں آسٹریلیا کا بدترین اجتماعی فائرنگ کا واقعہ تھا، جس کے بعد اسلحے کے قوانین میں وسیع پیمانے پر اصلاحات، نفرت انگیز تقاریر کے خلاف کریک ڈاؤن اور وزیراعظم انتھونی البانیز کی حکومت پر یہود دشمنی سے نمٹنے کے لیے شدید دباؤ پیدا ہوا۔ مبینہ حملہ آوروں میں سے ایک نوید اکرم پر قتل کے 15 الزامات سمیت 78 جرائم کے مقدمات درج ہیں، جبکہ اس کا والد اور شریک حملہ آور ساجد اکرم موقع پر ہی پولیس کی جوابی کارروائی میں مارا گیا تھا۔ نیو ساؤتھ ویلز کی پولیس منسٹر یاسمین کٹلی نے اے بی سی کو بتایا، جیسا کہ بی بی سی نے نوٹ کیا، کہ اس المیے نے ملک کو ہمیشہ کے لیے بدل ڈالا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری دنیا ہمیشہ کے لیے بدل گئی، پورے ملک میں حقیقت یہی ہے، اور میں نے اس وقت بھی کہا تھا کہ ہم کبھی پہلے جیسے نہیں رہیں گے۔
یہ کیوں اہم ہے
بین الاقوامی حالات کا جائزہ لینے والے قارئین کے لیے، یہ تعیناتی اس پیچیدہ توازن کو اجاگر کرتی ہے جو حکومتوں کو پرتشدد واقعات کے بعد عوامی تحفظ اور شہری آزادیوں کے درمیان برقرار رکھنا پڑتا ہے۔ مسلح گشت اور پولیس کے اختیارات پر جاری بحث دنیا بھر میں گونجتی ہے کیونکہ معاشرے یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ ریاستی نگرانی یا عسکریت پسندی کو ضروری حدود سے زیادہ بڑھائے بغیر کمزور طبقات کا تحفظ کیسے کیا جائے۔

