الجزیرہ اور رائیٹرز کی رپورٹس کے مطابق ارجنٹائن کے ایک وفاقی جج نے صدر جاوی میلی کے خلاف ڈیجیٹل ٹوکن کے معاملے میں جاری فوجداری تحقیقات کو ختم کر دیا ہے۔ یہ تحقیقات ایک ایسی cryptocurrency کے زوال پر کی جا رہی تھی جس کی ترویج صدر نے آن لائن کی تھی۔ عدالتی ریکارڈ کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ جج مارسیلو مارٹنیز ڈی جارجی نے فیصلہ دیا کہ جن واقعات کی جانچ کی گئی وہ کسی فوجداری جرم کے زمرے میں نہیں آتے، اور یہ کہ محض قیمتوں میں گراوٹ اور سرمایہ کاروں کا نقصان کسی فراڈ کے قیام کے لیے کافی نہیں۔

الجزیرہ اور رائیٹرز کے مطابق اس تحقیقات کا محور صدر جاوی میلی اور ان کی بہن کاریِنا میلی تھیں، جو کہ لِبرا ($Libra) ٹوکن کے اجرا سے متعلق تھیں۔ فروری 2025 میں صدر کی طرف سے سوشل میڈیا پر اس میم کوئن کی سفارش کیے جانے کے بعد اس ڈیجیٹل کرنسی میں ایک مختصر تیزی آئی تھی جس کے بعد اس کی قیمت گر گئی۔ الجزیرہ نے رپورٹ کیا کہ صدر نے بعد میں اپنی وہ پوسٹ ڈیلیٹ کر دی تھی اور اس کرپتو کرنسی سے کسی بھی قسم کے تعلق کی تردید کی تھی۔

جج مارسیلو مارٹنیز ڈی جارجی نے اپنے فیصلے میں لکھا، جیسا کہ الجزیرہ اور رائیٹرز نے رپورٹ کیا، کہ اگرچہ صدر کے منصب کی حیثیت اس ٹوکن کے اجرا کو زیادہ اثر انگیز بنا سکتی تھی لیکن صرف یہی بات فراڈ ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں۔ جج نے امریکی تاجر ہیڈن ڈیوس کے خلاف بھی تحقیقات ختم کر دیں جنہوں نے اس ٹوکن کے اجرا کے مشیر کے طور پر اپنی شناخت کرائی تھی اور کریش کے بعد تقریباً 10 کروڑ ڈالر رکھنے کا اعتراف کیا تھا جبکہ کسی بھی غلط کام سے انکار کیا تھا۔

الجزیرہ اور رائیٹرز کے مطابق صدر کے دفتر نے سوشل میڈیا پر ایک بیان جاری کر کے اس فیصلے پر خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ ایک صدر کی مکمل آزادی کے ساتھ تحقیقات کی گئیں جس کے نتیجے میں ان کی بے گناہی ثابت ہو گئی، جبکہ اس تحقیقات کے لیے سرکاری وسائل کے استعمال پر سوالات بھی اٹھائے گئے۔

پس منظر

الجزیرہ اور رائیٹرز نے رپورٹ کیا کہ جاوی میلی نے 2023 میں عہدہ سنبھالا تھا اور تب سے وہ ہائی انفلیشن سے نمٹنے کے لیے بڑے معاشی اقدامات کر چکے ہیں، جن میں ہزاروں سرکاری ملازمین کو فارغ کرنا، وزارتیں بند کرنا، حکومتی پروگراموں میں کمی اور سبسڈی کا خاتمہ شامل ہے۔ ان معاشی منصوبوں کے تحت مہنگائی اب کم ہو کر ماہانہ تقریباً 2 فیصد پر آ گئی ہے۔

اس کے علاوہ، الجزیرہ اور رائیٹرز نے یہ بھی بتایا کہ میلی کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں، جنہوں نے پچھلے سال وائٹ ہاؤس کے دورے کے دوران ارجنٹائن کے رہنما کی حمایت کی تھی اور انہیں اپنا پسندیدہ صدر قرار دیا تھا۔ میلی نے ٹرمپ پر یہ زور بھی ڈالا تھا کہ وہ امریکی وسط مدتی انتخابات سے زیادہ مضبوط ہو کر ابھریں، اور مغرب کے لیے اس ووٹ کی اہمیت اجاگر کی تھی۔

اس کی اہمیت کیوں ہے

بین الاقوامی حکمرانی اور معاشی پالیسیوں کا مشاہدہ کرنے والے قارئین کے لیے یہ معاملہ اعلیٰ ترین سرکاری حکام کی طرف سے ڈیجیٹل اثاثوں کی تشہیر اور عدلیہ کی نگرانی کے درمیان قانونی تعلق کو ظاہر کرتا ہے۔ اس تحقیقات کا طے شدہ عدالتی کارروائی کے ذریعے انجام کو پہنچنا اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ ریگولیٹری اور عدالتی ادارے بیٹھے ہوئے سربراہان مملکت سے جڑے مالیاتی تنازعات کو کس طرح نمٹاتے ہیں۔