اسرائیلی پارلیمنٹ یعنی کنیست کے لیے ہونے والے انتخابات میں فلسطینی نژاد شہریوں کی جانب سے ووٹنگ میں غیر معمولی دلچسپی دیکھی گئی ہے، جس نے سیاسی منظر نامے کو تبدیل کر کے رکھ دیا ہے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، ان علاقوں میں ووٹر ٹرن اوور تقریباً 80 فیصد تک جا پہنچا، جو کہ اسرائیل کے چینل 12 کے مطابق 1999 کے پرانے تمام ریکارڈ توڑنے کے مترادف ہے۔

ابتدائی ایگزٹ پولز کے نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ عرب جماعتیں، جن میں جوائنٹ لسٹ اور رعم (Ra'am) شامل ہیں، 120 رکنی کنیست میں اپنی تاریخ کی مضبوط پوزیشن حاصل کرنے کی تیاری کر رہی ہیں۔ دوسری جانب، الجزیرہ کی طرف سے جاری کردہ تازہ ترین ایگزٹ پولز کے مطابق اپوزیشن بلاک (جس کی قیادت گادی آئزن کوٹ کی یشار پارٹی کر رہی ہے) اور وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی لیکود پارٹی کے درمیان کانٹے کا مقابلہ ہے اور دونوں کے پاس 51، 51 نشستیں متوقع ہیں۔

اہم پیش رفت

  • اسرائیل کے چینل 12 سے گفتگو کرتے ہوئے رعم پارٹی کے رہنما منصور عباس نے کہا کہ موجودہ نشستوں کی تقسیم کا مطلب یہ ہے کہ فی الحال "کوئی حکومت نہیں" بن سکتی، اور انہوں نے امید ظاہر کی کہ حتمی نتائج کے بعد نیتن یاہو مخالف بلاک حکومت سازی کے لیے درکار 61 نشستوں کے ہندسے تک پہنچنے میں کامیاب ہو جائے گا۔
  • الجزیرہ کو انٹرویو دیتے ہوئے اسرائیل کے سابق سفیر آلون پنکاس نے بتایا کہ آئزن کوٹ جیسی جماعتوں کے لیے حکومت بنانا مشکل ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ انہوں نے انتخابی مہم کے دوران عرب جماعتوں کے ساتھ اتحاد نہ کرنے کا وعدہ کیا تھا۔
  • عینی شاہدین کے مطابق وزیر اعظم نیتن یاہو کی لیکود پارٹی نے یروشلم میں انتخابی حربے استعمال کیے، جن میں پارٹی پرچم لہرانے والی گاڑیاں اور عرب ووٹرز کے زیادہ ٹرن اوور کو اجاگر کر کے اپنے حامیوں کو ووٹ ڈالنے کی ترغیب دینے کے لیے اذان کی ریکارڈنگ نشر کرنا شامل تھا۔ الجزیرہ کے مطابق عرب سیاستدانوں نے ان اقدامات کو نژاد پرست اور اشتعال انگیز قرار دیا۔

پس منظر

حالیہ انتخابات کے ایگزٹ پولز نے اسرائیل میں فلسطینی شہریوں کی سیاسی عمل میں بھرپور شرکت کو واضح کیا ہے۔ رعم پارٹی اس وقت کنیست میں 5 نشستیں رکھتی ہے اور وہ 2021 سے 2022 کے دوران برسرِ اقتدار اتحاد کا حصہ بھی رہ چکی ہے۔ الجزیرہ سے بات کرتے ہوئے آلون پنکاس نے بتایا کہ انتخابات سے پہلے اور بعد میں دونوں بڑے سیاسی بلاکس نے عرب جماعتوں سے رابطے کیے، اگرچہ یہودی قیادت والے اتحادوں کو عرب لسٹوں کے مطالبات ماننے میں مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔

اس کی اہمیت کیوں ہے

بین الاقوامی پارلیمانی سیاست اور انتخابی تبدیلیوں پر نظر رکھنے والے حلقوں کے لیے یہ صورتحال اس بات کی عکاس ہے کہ ووٹر ٹرن اوور اور اتحادی حساب کتاب کس طرح قانون ساز اداروں میں طاقت کے توازن کو بدل سکتے ہیں اور ایک مستحکم حکومت کی تشکیل کو پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔

آگے کیا ہوگا

جیسے جیسے انتخابی نتائج کی گنتی جاری ہے، سیاستدان حتمی اور تصدیق شدہ نتائج کے منتظر ہیں تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ حکمراں اتحاد کے قیام کے لیے درکار مطلوبہ حد تک پہنچا جا سکتا ہے یا نہیں۔