الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق جاپان کے شہر ناگویا میں جاری ایشین پیرا گیمز کے دوران غلط قومی ترانے بجائے جانے کے تین مختلف واقعات پیش آئے، جن پر ناگویا کے میئر ایچیرو ہیروساوا کو عوامی سطح پر معافی مانگنا پڑی۔ میئر کا کہنا تھا کہ پہلے ہونے والے مقابلوں کی خامیوں کے بعد اس طرح کی بار بار غلطیاں ناقابلِ قبول ہیں۔

الجزیرہ کے مطابق پیر کے روز مردوں کے پیرا تائیکوانڈو مقابلے میں تائیوان کے فاتح کھلاڑی کے لیے پورا ایرانی قومی ترانہ بجا دیا گیا۔ اسی روز خواتین کے تائیکوانڈو میڈل کی تقریب میں منگولیا کی کھلاڑی کو گولڈ میڈل ملنے پر ایک بار پھر ایرانی ترانہ چلا دیا گیا، جسے منگولیا کے وفد کی نشاندہی پر روکا گیا۔ ایک اور واقعے میں چین اور ایران کے درمیان والی بال میچ سے قبل چین کی بجائے جنوبی کوریا کا ترانہ تقریباً پانچ سیکنڈ تک نشر کیا گیا۔

پس منظر

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق یہ ایشین پیرا گیمز ہفتے تک جاری رہنے والے ہیں، جن میں 18 کھیلوں میں لگ بھگ 4 ہزار ایتھلیٹس اور آفیشلز شریک ہیں۔ ان تازہ ترین غلطیوں سے قبل اکتوبر کے اوائل میں ختم ہونے والے ایشین گیمز کے انتظامات پر بھی کھلاڑیوں کے لیے ناکافی سہولتوں اور غلط ترانے بجائے جانے پر تنقید کی گئی تھی، جن میں 18 ستمبر کو جنوبی کوریا کی ہاکی ٹیم کے لیے شمالی کوریا کا ترانہ چلانے کا واقعہ بھی شامل تھا۔

یہ معاملہ کیوں اہم ہے؟

الجزیرہ کے مطابق ناگویا کے میئر نے بتایا کہ ایشین گیمز کے دوران پیش آنے والے ایسے ہی مسائل کے بعد انتظامیہ نے مستقبل میں غلطیوں کو روکنے کے لیے اقدامات کیے تھے، لیکن اس کے باوجود ان غلطیوں کا دوبارہ سر اٹھانا ناگزیر بن گیا جس پر میئر کو عوامی معافی مانگنا پڑی۔