انگلینڈ کے سابق اسٹار فٹبالر اینڈی کیرل نے اپنے ساتھ پیش آنے والے جنسی زیادتی کے واقعے کو عوامی سطح پر بیان کرنے کے بعد ملنے والی زبردست عوامی حمایت پر دلی تشکر کا اظہار کیا ہے۔ بی بی سی اسپورٹ کے مطابق، 36 سالہ فٹبالر نے اعتراف کیا کہ وہ 2021 کے اس واقعے کے صدمے سے مکمل طور پر سنبھلنے کے حوالے سے خوف کا شکار تھے۔ یہ واقعہ نیوکیسل یونائیٹڈ کے ساتھ ان کے دوسرے دور کے دوران پیش آیا تھا۔

بی بی سی اسپورٹ کی رپورٹ کے مطابق، اس حملے کے ذمہ دار شخص کو، جس کی شناخت کیرل نے 'دی سن' کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ٹیلی ویژن ڈانس کوچ کیون ایڈمز کے طور پر کی، جنسی جرائم کا مجرم قرار دیا گیا اور 2023 میں اسے 20 ماہ قید کی سزا سنائی گئی۔ کیرل نے بتایا کہ انہوں نے اس شخص کو اپنے گھر سے باہر نکال دیا تھا اور جب اس نے دوبارہ اندر آنے کی کوشش کی تو انہوں نے اسے بے ہوش کر دیا تھا۔ انہوں نے عدالت میں گواہی دینے کے مرحلے کو انتہائی شرمناک اور ہولناک قرار دیا۔

بی بی سی اسپورٹ کے حوالے سے 'فٹبال ان سینسرڈ' پوڈ کاسٹ پر بات کرتے ہوئے کیرل نے بتایا کہ اس معاملے پر کھل کر سامنے آنے کے بعد لوگوں کا ردعمل انتہائی زبردست رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر وہ اس بارے میں پہلے بات کر لیتے تو شاید انہیں اس صدمے سے باہر نکلنے میں کم وقت لگتا، لیکن اب وہ اپنی شریک حیات، خاندان، دوستوں اور وسیع تر عوام کے تعاون سے طاقت حاصل کر رہے ہیں۔

پس منظر

بی بی سی اسپورٹ کے مطابق یہ حملہ 2021 میں اینڈی کیرل کے گھر اس وقت پیش آیا جب ان کی شریک حیات گھر پر موجود نہیں تھیں۔ حملہ آور ان کی سابقہ شریک حیات کا دوست تھا۔ کیرل، جو اس سے پہلے لیورپول اور ویسٹ ہیم کے لیے کھیل چکے ہیں اور اس وقت ڈیگنہیم کے کھلاڑی اور کو-اونر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں، نے اس واقعے کی تفصیلات اپنی خود نوشت 'Owning It' میں درج کی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یہ راز ایک طویل عرصے تک اندر ہی اندر انہیں گھنٹتا رہا، اور اس بات پر زور دیا کہ اگرچہ کچھ زخم کبھی مکمل طور پر نہیں بھرتے، لیکن عوامی حمایت نے انہیں اس صدمے کو برداشت کرنے میں مدد دی ہے۔

اس کی اہمیت

کھیلوں اور عمومی عوامی زندگی میں ذہنی صحت، صدمات اور کھلاڑیوں کو درپیش چیلنجز کے موضوعات ہر جگہ سامعین کے دلوں کو چھوتے ہیں۔ اہم شخصیات کی جانب سے ذاتی مشکلات پر کھل کر بات کرنا شفا یابی، استقامت اور باہمی تعاون کے نظام کی عالمگیر اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔

بی بی سی اسپورٹ کی رپورٹس کے مطابق، کیرل کی جانب سے حملہ آور کے طور پر نام لیے جانے کے بعد سے کیون ایڈمز کی جانب سے کوئی عوامی تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے۔