دنیا کی گاڑی چلانے کے لیے تیل، گیس اور قیمتی دھاتیں فراہم کرنے والے افریقہ کے اپنے لاکھوں باسی آج بھی بجلی جیسی بنیادی سہولت سے محروم ہیں۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، افریقہ کے پاس تیل اور گیس کے وسیع ذخائر ہونے اور دنیا کی بیٹری کے لیے درکار اہم معدنیات کی اکثریت پیدا کرنے کے باوجود، براعظم کے 560 ملین افراد اب بھی اندھیرے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ اسی سنگین تضاد کے پیش نظر کیپ ٹاؤن میں افریقی انرجی ویک کا انعقاد کیا گیا ہے، جہاں توانائی کے وزراء، سرمایہ کار اور تیل کمپنیوں کے سربراہان سرمایہ کاری اور توانائی کے اس بحران پر غور کرنے کے لیے جمع ہوئے ہیں۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، افریقہ کے پاس تقریباً 125 ارب بیرل خام تیل کے ثابت شدہ ذخائر موجود ہیں، جو دنیا بھر کے کل ذخائر کا 7.2 فیصد بنتے ہیں۔ ان میں اکیلے لیبیا اور نائجیریا کا حصہ تقریباً 70 فیصد ہے، جہاں بالترتیب 48.4 ارب اور 36.9 ارب بیرل تیل موجود ہے، جبکہ ان کے بعد الجزائر، انگولا، جنوبی سوڈان اور مصر کا نمبر آتا ہے۔
پیداوار کے حوالے سے الجزیرہ نے بتایا کہ نائجیریا سال 2024 میں افریقہ کا سب سے بڑا تیل پیدا کرنے والا ملک رہا، جس نے براعظم کی کل پیداوار کا تقریباً 23 فیصد حصہ ڈالا، جبکہ الجزائر اور انگولا نے فی کس تقریباً 17 فیصد پیداوار دی۔ ان تینوں ملکوں نے مل کر افریقہ کے تیل کا 56 فیصد پیدا کیا، اور سرفہرست پانچ پیداواری ممالک کا حصہ 80 فیصد سے زائد رہا۔ الجزیرہ نے یہ بھی واضح کیا کہ لیبیا، سب سے بڑے ذخائر رکھنے کے باوجود، سیاسی تنازعات اور رکاوٹوں کی وجہ سے پیداوار کے لحاظ سے چوتھے نمبر پر ہے، جس سے اٹلی کی انی، فرانس کی ٹوٹل انرجی اور اسپین کی ریپسول جیسی غیر ملکی کمپنیوں کا کام متاثر ہوا۔
قدرتی گیس کے معاملے میں، الجزیرہ نے بتایا کہ سال 2023 کے اختتام تک افریقہ کے پاس تقریباً 18 ٹریلین مکعب میٹر کے ثابت شدہ ذخائر موجود تھے۔ نائجیریا اور الجزائر کے پاس ان کا تقریباً 58 فیصد حصہ ہے، جبکہ موزمبیق، مصر اور لیبیا کے پاس بھی اہم حصے موجود ہیں۔ الجزیرہ نے مزید بتایا کہ الجزائر اور نائجیریا سرکردہ برآمد کنندگان ہیں، جبکہ موزمبیق کے سمندری ذخائر، جو 2010 کی دہائی میں دریافت ہوئے تھے، اب بھی زیادہ تر غیر ترقی یافتہ ہیں۔
مزید برآں، الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق افریقی ممالک نے سال 2025 میں کوبالٹ کی عالمی پیداوار کا 71.2 فیصد اور مینگنیج کی عالمی پیداوار کا 72.4 فیصد فراہم کیا، جو ریچارج ایبل بیٹریوں، اسٹیل کو مضبوط کرنے اور الیکٹرک گاڑیوں کے لیے انتہائی ضروری مواد ہے۔
پس منظر
الجزیرہ کے مطابق، کیپ ٹاؤن میں افریقی انرجی ویک کا انعقاد جاری ہے، جو تیل اور گیس میں سرمایہ کاری، توانائی کے مالیات اور توانائی کے خاتمے پر خصوصی توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ براعظم کی کل خام تیل کی پیداوار دنیا کے خام تیل کا 7.6 فیصد ہے، جو عالمی ذخائر کے 7.2 فیصد حصے سے کافی حد تک مطابقت رکھتی ہے۔ بڑی غیر ملکی توانائی کمپنیاں طویل عرصے سے ان وسائل سے مالامل خطوں میں سرگرم ہیں، اگرچہ بنیادی ڈھانچے اور سیاسی رکاوٹیں اب بھی اس شعبے کو تشکیل دے رہی ہیں۔
اس کی اہمیت کیا ہے
عالمی توانائی کی حرکیات کا مشاہدہ کرنے والے قارئین کے لیے، وسائل کے اخراج اور گھریلو رسائی کے درمیان فرق ترقی پذیر خطوں میں جاری ساختی چیلنجوں کو اجاگر کرتا ہے۔ توانائی کے مالیات، فوسل فیول کی سرمایہ کاری اور معدنی سپلائی چینز کے ارد گرد ہونے والی بات چیت بین الاقوامی منڈیوں اور صنعتی رسد کے لیے وسیع مضمرات کی حامل ہے۔
آگے کیا ہوگا
الجزیرہ کے مطابق، افریقی انرجی ویک جاری ہے۔

