تہران کے ایک رہائشی علاقے میں ہونے والے اس حملے کو سات ماہ بیت چکے ہیں، مگر حامد مرزائی کے دل سے وہ خوفناک لمحے نہیں نکلے۔ الجزیرہ کے مطابق 9 مارچ 2026 کو ہونے والے اس امریکی اسرائیلی حملے میں مرزائی کا وہ خاندانی گھر مٹی کا ڈھیر بن گیا جسے ان کے دادا اور والد کے چچا نے تعمیر کیا تھا، اور اس المناک واقعے میں ان کی 26 سالہ اہلیہ محدثہ سمیت خاندان کے 12 افراد لقمہ اجل بن گئے۔
الجزیرہ نے بتایا کہ حامد مرزائی دوپہر 1 بجے اپنے کام پر گئے تھے اور ڈھائی بجے ان کی اہلیہ کا پیغام آیا تھا کہ واپسی پر سر درد کی دوا لیتے آئیں، مگر اس کے بعد فون کالز کا کوئی جواب نہیں ملا۔ جب وہ پیدل گھر کی طرف لوٹ رہے تھے تو انہوں نے ایک سنسناہٹ کی آواز سنی اور پہلا میزائل آ گرا جس سے زمین لرز اٹھی۔ موقع پر پہنچنے پر معلوم ہوا کہ پورا خاندانی مکان ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے، سیڑھیاں غائب تھیں اور کچھ پڑوسی بھی ملبے تلے دب گئے تھے جنہیں بعد میں ہلالِ احمر کے رضا کاروں نے نکالا۔
پس منظر
الجزیرہ کو دی گئی تفصیلات کے مطابق یہ عمارت ایک خاندانی ملکیت تھی جس کے فلیٹس بچوں میں تقسیم کیے گئے تھے۔ حامد مرزائی اور ان کی اہلیہ محدثہ، جن کی شادی کو ایک سال ہوا تھا اور جو اپنے خاندان کو آگے بڑھانے کے خواب دیکھ رہے تھے، اسی عمارت کے ایک حصے میں رہائش پذیر تھے۔ یہ پیر کی دوپہر کا وقت تھا جب اس حملے نے پورے محلے کو اجاڑ کر رکھ دیا۔
اہمیت
الجزیرہ کی اس رپورٹ کے مطابق، جنگی تنازعات اور فوجی کارروائیوں کا اصل اور بھیانک نقصان عام خاندانوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔ جب ایک ہی گھر کے تمام افراد اجڑ جائیں تو پاتال جیسی خاموشی اور کبھی نہ ختم ہونے والا دکھ ہی پسماندگان کا مقدر بنتا ہے۔

