12 مارچ 1949 کو پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی نے وزیرِ اعظم لیاقت علی خان کی پیش کردہ ”قراردادِ مقاصد“ منظور کی۔ اس قرارداد میں وہ بنیادی اصول طے کیے گئے جن پر پاکستان کا آئین بننا تھا۔
اہم نکات
- کائنات پر حاکمیتِ اعلیٰ صرف اللہ تعالیٰ کی ہے، اور عوام کو یہ اختیار ایک مقدس امانت کے طور پر حاصل ہے جسے ان کے منتخب نمائندے استعمال کریں گے۔
- جمہوریت، آزادی، مساوات، رواداری اور سماجی انصاف کے اصول، جیسا کہ اسلام نے بیان کیے ہیں، پوری طرح اپنائے جائیں گے۔
- اقلیتوں کو اپنے مذہب پر آزادی سے عمل کرنے اور اپنی ثقافت کو فروغ دینے کا حق ہوگا۔
- عدلیہ کی آزادی کو یقینی بنایا جائے گا۔
آئین میں مقام
قراردادِ مقاصد 1956، 1962 اور 1973 کے آئین کا دیباچہ رہی۔ 1985 میں آرٹیکل 2-اے کے ذریعے اسے آئین کا باقاعدہ حصہ بنا دیا گیا۔
