مشرقی یورپ کی جنگ ایک خونریز اور نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں یوکرین کی فورسز نے ڈونٹسک کے علاقے میں روسی فوج کو کئی مقامات پر پیچھے ہٹا دیا ہے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، کریملن کے حامی ٹیلیگرام چینل 'رایبار' اور سرکاری بیانات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ 'آپریشن ویوالڈی' نامی اس جوابی کارروائی نے محاذِ جنگ کا نقشہ بدل کر رکھ دیا ہے۔

الجزیرہ نے بتایا کہ روسی فوج اب ان بستیوں کا دفاع کرنے پر مجبور ہے جن پر وہ قابض تھیں، جبکہ لیمان کے جنوب میں واقع کئی گاؤں روسی کنٹرول سے نکل چکے ہیں۔ روسی فورسز اس سے قبل لیمان کو سلاویانسک اور کراماتورسک شہروں پر حملے کے لیے استعمال کرنا چاہتی تھیں، لیکن اب صورتحال بدل چکی ہے۔ الجزیرہ کے مطابق، آپریشن ویوالڈی کے تحت اس سال لیمان کے گردونواح میں 175 مربع کلومیٹر علاقہ واپس لیا جا چکا ہے۔ رایبار کے مطابق، روسی دستے اب جارحانہ حکمت عملی کی بجائے دفاعی پوزیشن سنبھالنے پر مجبور ہیں۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، سیورسکی ڈونٹس دریا کے کنارے واقع گاؤں کریوا لوکا کے قریب فیصلہ کن جنگ جاری ہے۔ یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے خبر رساں ادارے رائیٹرز کو بتایا کہ آپریشن ویوالڈی کامیاب رہا ہے لیکن ابھی نامکمل ہے۔ دوسری طرف، روسی ذرائع نے اعتراف کیا کہ یوکرین نے کریوا لوکا کے مغرب میں بستیاں دوبارہ حاصل کر لیں۔ روسی ذرائع کا یہ بھی کہنا تھا کہ مواصلاتی حکمت عملی کی خامیوں اور قبل از وقت اعلانات نے یوکرین کو جوابی حملے کا موقع دیا۔

الجزیرہ کے مطابق، یوکرین کی وزارتِ دفاع نے دعویٰ کیا کہ اس کی سپلائی لائنوں کو نشانہ بنانے کی مہم کے دوران ستمبر میں ریکارڈ تعداد میں فضائی دفاعی اثاثوں اور اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ دریں اثنا، الجزیرہ نے بتایا کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے دعویٰ کیا تھا کہ روس نے ستمبر میں 1300 مربع کلومیٹر علاقہ حاصل کیا۔ تاہم، انسٹی ٹیوٹ فار دی سٹڈی آف وار، جو کھلے ذرائع کے ڈیٹا سے نگرانی کرتا ہے، کے حوالے سے الجزیرہ نے بتایا کہ روس نے اس دوران درحقیقت 80 مربع کلومیٹر علاقہ کھو دیا۔

پس منظر

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، اس جاری تنازع میں مشرقی یوکرین کے محاذ پر شدید لڑائی جاری ہے اور دونوں اطراف سے جانی و مالی نقصان میں اضافہ ہو رہا ہے۔ لیمان کے علاقے کو اس جنگ میں اہم اسٹریٹجک حیثیت حاصل ہے، جہاں یوکرین نے جوابی کارروائی کے لیے اپنی تیاریاں مکمل کی تھیں۔

اہمیت کیوں ہے؟

بین الاقوامی مشاہدین اور قارئین کے لیے دنیا کے کسی بھی حصے میں جاری تنازعات عالمی معیشت، توانائی کی منڈیوں اور خوراک کی سیکیورٹی پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ محاذ جنگ کی بدلتی ہوئی صورتحال اور بڑھتا ہوا جانی نقصان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ طویل جنگیں انسانی زندگیوں کے لیے کتنی تباہ کن ثابت ہوتی ہیں۔