بی بی سی نیوز کے مطابق، امریکی خاندانوں پر بڑھتے ہوئے مالی دبوء کو کم کرنے کی غرض سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ ایک معاہدے کا اعلان کیا ہے جس کے تحت ماسکو فوری طور پر عالمی منڈی میں ڈیزل فراہم کرے گا۔
بی بی سی نیوز کی رپورٹ کے مطابق، امریکی صدر نے بتایا کہ روسی صدر نے فوری طور پر 300,000 ٹن ڈیزل کی فراہمی پر اتفاق کیا ہے، جبکہ نومبر میں مزید 500,000 ٹن اور اس کے بعد مزید 10 لاکھ ٹن ڈیزل مہیا کیا جائے گا۔ ٹروتھ سوشل پر اپنے پیغام میں امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ اس اقدام سے امریکہ اور دنیا بھر میں ڈیزل کی قیمتوں میں تیزی سے کمی آئے گی۔
بی بی سی نیوز کے مطابق، اس اعلان کے فورا بعد امریکی وزارت خزانہ نے ایک عارضی لائسنس جاری کر دیا جس کے تحت روسی ڈیزل کو منڈی میں لانے کی اجازت دی گئی ہے۔ روسی صدر کے ایلچی کرل دمتریف نے سوشل میڈیا پر اس معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ توانائی کے شعبے میں روس اور امریکہ کا یہ تعاون دنیا کے لیے مفید ثابت ہوگا۔
پس منظر
بی بی سی نیوز کے مطابق، فروری میں ایران کے ساتھ جنگ شروع ہونے کے بعد سے امریکہ میں ڈیزل کی قیمتیں دوگنی ہو چکی ہیں۔ اس اضافے کی وجہ سے آنے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل ریپبلکنز پر سیاسی دباؤ میں اضافہ ہوا ہے۔ بی بی سی کی طرف سے پیش کردہ اے اے اے (AAA) کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ امریکہ میں ڈیزل کی اوسط قیمت فی الحال 6.28 ڈالر فی گیلن ہے، جو ستمبر کے آخر میں ریکارڈ کی گئی بلند ترین سطح 6.53 ڈالر سے کم ہے۔
یہ کیوں اہم ہے
پاکستان سے بین الاقوامی معاشی تبدیلیوں کا جائزہ لینے والے قارئین کے لیے، عالمی ایندھن کی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ اور بڑی عالمی طاقتوں کے درمیان توانائی کے یہ معاہدے دنیا بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے رجحانات اور وسیع تر معاشی استحکام پر براہ راست اثرانداز ہوتے ہیں۔

