جب فضائی سفر کے دوران حفاظت کا سوال کھڑا ہو تو مسافروں اور ان کے گھر والوں کی پریشانی بڑھنا فطری بات ہے۔ جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (PIA) نے ریاض کے لیے اپنی پروازیں عارضی طور پر معطل کر دی ہیں جس کی تصدیق پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی نے کی ہے۔

پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی نے واضح کیا ہے کہ اگرچہ ریاض جانے والی پروازیں عارضی طور پر روکی گئی ہیں، لیکن سعودی عرب کے لیے دیگر پروازوں کا سلسلہ معمول کے مطابق جاری ہے۔ اتھارٹی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ان افواہوں کو بھی مسترد کر دیا جن میں وسیع پیمانے پر پروازیں معطل ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا تھا، اور انہیں بے بنیاد قرار دیا۔

پس منظر

جیو نیوز کے مطابق یہ فیصلہ جمعرات کے روز ریاض کے ہوائی اڈے پر ہونے والے حملوں کے بعد کیا گیا، جن میں سعودی حکام کے مطابق 3 افراد جاں بحق اور کئی زخمی ہوئے تھے۔ ان حملوں کے نتیجے میں سعودی ایئرلائنز کے ایک طیارے کو بھی نقصان پہنچا، جس کے بعد کئی بین الاقوامی ایئرلائنز نے بھی دارالحکومت کے لیے اپنی پروازیں منسوخ کر دی تھیں۔ جیو نیوز نے بتایا کہ یمن کے حوثی گروپ نے سعودی عرب کے اوپر پرواز کرنے والے طیاروں کے خلاف دھمکیوں کا اعادہ کیا ہے، تاہم مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے اوپر پرواز کرنے والی پروازیں اس سے مستثنیٰ ہیں۔

ان حالات اور شہریوں کی حفاظت کے پیش نظر، یورپی یونین ایوی یوشن سیفٹی ایجنسی نے اس جغرافیائی علاقے میں توسیع کر دی ہے جہاں وہ ایئرلائنز کو پروازیں نہ کرنے کا مشورہ دیتی ہے۔ پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی نے فی الحال یہ نہیں بتایا کہ ریاض کے لیے پی آئی اے کی یہ معطلی کتنے عرصے تک برقرار رہے گی۔

صورتحال کا اثر

سعودی عرب کا سفر کرنے والے عام پاکستانی مسافروں کے لیے یہ تبدیلیاں اچانک پریشانی کا باعث بنی ہیں، بالخصوص جب علاقائی سکیورٹی کے امور پر تشویش پائی جاتی ہو۔ اگرچہ مملکت کے دوسرے حصوں کے لیے پروازیں اب بھی بحال ہیں، لیکن ریاض کی پروازوں کی عارضی بندوق اس بات کا ثمر ہے کہ بین الاقوامی سکیورٹی کے واقعات کس طرح معمول کے سفر کو متاثر کرتے ہیں۔