مقبوضہ مغربی کنارے میں زیتون کی کٹائی کا سیزن شروع ہوتے ہی کسانوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، جہاں وہ اپنی فصل سمیٹنے کے لیے بین الاقوامی کارکنوں سے تحفظ کی دہائی دے رہے ہیں۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، زیتون توڑنے والے فلسطینی کسانوں پر پُرتشدد اسرائیلی آباد کاروں کی جانب سے حملے کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ان حملہ آور آباد کاروں کو اکثر اسرائیلی فوج کی پشت پناہی اور دفاع حاصل ہوتا ہے۔

پس منظر

مقبوضہ مغربی کنارے میں سالانہ زیتون کی کٹائی کا عمل روایتی اہمیت کا حامل ہے، لیکن اس بار کسانوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ الجزیرہ کی نشاندہی کے مطابق، فصل کی کٹائی کے دوران کسانوں پر پُرتشدد اسرائیلی آباد کاروں کے حملے معمول بن چکے ہیں، جنہیں اسرائیلی فوج کا تحفظ بھی میسر ہوتا ہے۔

اس صورتحال کی اہمیت

الجزیرہ کی رپورٹس میں مقبوضہ مغربی کنارے کے فلسطینی کسانوں کو زیتون کی کٹائی کے دوران درپیش سنگین چیلنجز اور مشکلات کو اجاگر کیا گیا ہے، جو ان کی روزی روٹی اور زندگی کا اہم ذریعہ ہیں۔