کیلیفورنیا یا لندن نہیں بلکہ دنیا بھر میں اپنی پرتعیش زندگی کے لیے مشہور موناکو کی پرسکون سڑکوں پر جون میں ہونے والے ہولناک بم دھماکے کے معاملے میں ایک اہم موڑ آ گیا ہے۔ بی بی سی نیوز کی رپورٹ کے مطابق، کییف کی ایک جیل کے بھاری آہنی دروازوں کے پیچھے بند یوکرین کے سکیورٹی سروسز کے ایک سابق اہلکار نے طویل خاموشی توڑتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ایک کروڑ پتی شخص کو نشانہ بنانے والے اس خطرناک آپریشن کی منظوری ان کے اپنے ملک کی ملٹری انٹیلی جنس کے اعلیٰ حکام نے دی تھی۔
بی بی سی کے مطابق، اس حملے میں یوکرین سے تعلق رکھنے والے بزنس مین وادیم یرمولاییف، ان کا 13 سالہ بیٹا اور ان کی پارٹنر شدید زخمی ہوئے تھے۔ ساحلی علاقے میں رات کے کھانے کے بعد واپسی پر ہونے والے اس دھماکے کے بعد یرمولاییف نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ ان کا اور ان کے خاندان کا زندہ بچ جانا معجزے سے کم نہیں۔
اس معاملے میں سامنے آنے والے سابق سکیورٹی اہلکار ویٹالی ژیکووچ نے خود کو ایس بی یو سکیورٹی سروس کا فری لانسر قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اناستاسیا بریزووسکا نامی خاتون ان کی ایجنٹ تھیں، جنہیں کیمرے میں بم نصب کرتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق، دھماکے کے ایک ہفتے بعد اس خاتون کی لاش کییف کے مغرب میں ایک اتلی قبر سے ملی تھی جس کے سر میں گولیاں ماری گئی تھیں۔ ژیکووچ نے بی بی سی کو بتایا کہ نہ تو انہوں نے اس خاتون کو قتل کرنے کا حکم دیا تھا اور نہ ہی انہوں نے اسے قتل کیا ہے۔
بی بی سی نے رپورٹ کیا کہ ژیکووچ کو ایچ یو آر (HUR) کے ایک فعال انٹیلی جنس افسر ولادیسلاو ریوت کے ساتھ اس خاتون کے قتل کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ ریوت نے ابتدائی طور پر اعترافِ جرم کرتے ہوئے تفتیش کاروں کو لاش کی جگہ دکھائی تھی، لیکن بعد میں عدالت میں اپنا بیان بدلتے ہوئے سارا الزام ژیکووچ پر ڈال دیا۔
بی بی سی کے سوالات کے جواب میں ژیکووچ نے الزام عائد کیا کہ ریوت، جنہیں وہ باس کہتے ہیں، انہوں نے ہی موناکو آپریشن تجویز کیا تھا اور بتایا تھا کہ وزارتِ دفاع کے ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس کے اعلیٰ حکام نے اس کی منظوری دی ہے۔ ژیکووچ کا کہنا ہے کہ انہوں نے پہلے اناستاسیا کو بم دھماکے کے لیے استعمال کرنے سے انکار کیا تھا کیونکہ وہ تربیت یافتہ نہیں تھی، لیکن بعد میں ریوت نے اسے صرف ریکی کے لیے استعمال کرنے پر اتفاق کیا اور خود اس سے براہِ راست رابطہ کر کے دھماکا خیز مواد فراہم کیا۔
پس منظر
بی بی سی نیوز کی رپورٹ کے مطابق، یہ سارا معاملہ جون میں موناکو میں ہونے والے اس بم حملے کے گرد گھومتا ہے جس میں وادیم یرمولاییف اور ان کے خاندان کو نشانہ بنایا گیا۔ یوکرین کے پراسیکیوٹرز کی فراہم کردہ فوٹیج کے مطابق، سی سی ٹی وی کیمروں میں اناستاسیا بریزووسکا کو دھماکے سے پہلے اور اس کے دوران دیکھا گیا تھا۔ دھماکے کے بعد اناستاسیا کی لاش کییف کے مغرب میں جنگلات سے ملی تھی۔ ایس بی یو نے بی بی سی کو دیے گئے ایک بیان میں ژیکووچ کو صرف ایک سابق قانون نافذ کرنے والے افسر کے طور پر بیان کیا ہے۔ دوسری طرف، ایچ یو آر کا کہنا ہے کہ وہ مکمل تحقیقات کے لیے پرعزم ہیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھرپور تعاون فراہم کر رہے ہیں۔
یہ اہم کیوں ہے
عالمی امور اور سکیورٹی کی صورتحال پر نظر رکھنے والے مبصرین کے لیے یہ معاملہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ تنازعات کے دوران انٹیلی جنس اداروں کے اندرونی معاملات کتنے پیچیدہ ہوتے ہیں۔ اس قسم کے واقعات یہ بتاتے ہیں کہ جب سرحد پار ہونے والے آپریشنز ملکی سطح کی مجرمانہ تحقیقات کے ساتھ جڑتے ہیں تو جوابدہی کے کتنے بڑے چیلنجز سامنے آتے ہیں۔ جیل میں بند اہلکاروں کے یہ بیانات ریاستی سکیورٹی اداروں کی اندرونی چپقلش کا احوال جاننے کا ایک نادر موقع فراہم کرتے ہیں۔
