لندن کے سیاسی میدان میں ایک اہم اور کانٹے دار مقابلے کے بعد برطانوی حکمراں جماعت نے سکھ کا سانس لیا ہے، جہاں لیبر پارٹی نے سابق وزیراعظم کیر سٹارمر کی خالی ہونے والی نشست کامیابی سے بچا لی ہے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق لیبر امیدوار سگل عبدی ولی نے 12292 ووٹ لے کر گرین پارٹی کے رہنما زیک پولانسکی کو شکست دی، جو 8928 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔

ہولبورن اور سینٹ پینکراس کے اس حلقے میں انتخاب سابق وزیراعظم کے پارلیمنٹ سے استعفیٰ کے بعد کرایا گیا تھا۔ الجزیرہ کے مطابق صومالیہ سے بطور طفل مہاجر برطانیہ آنے والی اور مقامی کونسل کی قیادت کرنے والی سگل عبدی ولی نے اپنی جیت کے بعد کہا کہ یہ نتیجہ معاشرے میں تقسیم پیدا کرنے والوں کی شکست ہے۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق یہ فتح وزیراعظم اینڈی برہم کے لیے ایک خوش آئند پیشرفت ہے، جنہیں حال ہی میں پاپولسٹ سیاسی چیلنجز کے پیش نظر قانون سازوں نے اس منصب پر فائز کیا تھا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ اگرچہ لیبر پارٹی بائیں بازو کے ووٹرز کی گرین پارٹی کی طرف منتقلی کے بعد اپنے ووٹرز کو واپس لانے میں کامیاب رہی، لیکن اس نتیجے نے گرین پارٹی کے اندر زیک پولانسکی کی قیادت پر سوالات بھی اٹھا دیے ہیں۔

الجزیرہ نے بتایا کہ 43 سالہ زیک پولانسکی کو صصہیونزم سے متعلق پارٹی کانفرنس کی ایک قرارداد پر گرین پارٹی کے بیشتر ارکان، دیگر جماعتوں اور یہودی تنظیموں کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ شکست تسلیم کرنے اور تنقید کے باوجود زیک پولانسکی نے تصدیق کی کہ وہ پارٹی رہنما کے طور پر کام جاری رکھیں گے اور لیبر پارٹی کی کامیابی کو وزیراعظم برہم کے دور کے ابتدائی اثرات سے منسوب کیا۔

پس منظر

الجزیرہ کے مطابق ہولبورن اور سینٹ پینکراس کے حلقے میں حال ہی میں اس رجحان کو دیکھا گیا ہے جسے مبصرین برہم کی لہر کہتے ہیں، جس نے حکمراں لیبر پارٹی کو اس اہم نشست کو بچانے کے بعد بڑی سیاسی راحت دی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ غزہ کی جاری صورتحال کے تناظر میں گزشتہ 3 برسوں کے دوران برطانیہ میں ووٹرز کے رجحانات میں تبدیلی آئی ہے، جس نے 2024 کے عام انتخابات کے دوران اسرائیل کے فوجی اقدامات پر کڑی تنقید کرنے والی گرین پارٹی کو فائدہ پہنچایا تھا۔

اس کی اہمیت کیوں ہے؟

بین الاقوامی مبصرین اور عالمی جمہوری عمل پر نظر رکھنے والے قارئین کے لیے بڑی مغربی معیشتوں میں سیاسی تبدیلیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ سیاسی اتحاد اور ووٹرز کی وفاداریاں کتنی نازک ہوتی ہیں۔ اعلیٰ عہدوں پر مہاجرین کی نمائندگی، قیادت کی تبدیلی اور خارجہ پالیسی کے اثرات جیسے عوامل دنیا بھر کے سیاسی نظاموں کے سامنے موجود پیچیدہ چیلنجز کی عکاسی کرتے ہیں۔